23 مئی 2026 - 15:23
حصۂ اول | امریکہ مکمل شکست سے دوچار ہوگیا ہے، کنزرویٹو رابرٹ کیگان کا ٹرمپ کو ہتھیار ڈالنے کا مشورہ

بہت بمشکل ایسی گھڑی ياد آ سکتی ہے کہ امریکہ کسی تصادم میں مکمل شکست کا شکار ہؤا ہو؛ ایسی قطعی شکست جس کا اسٹریٹجک نقصان نہ قابل تلافی ہو اور نہ ہی نظرانداز کرنے کے قابل۔ / ٹرمپ بہت تیزرفتار حل کا محتاج ہے۔ لہٰذا، امریکہ کو ہتھیار ڈالنا پڑیں گے، / اسی وقت پسپائی اختیار کرنا سب سے سستا، اسان اور کم ضرر آپشن ہے۔ / "خلیج فارس کی عرب معیشتیں امریکی تسلط کی چھتری کے سائے میں تعمیر ہوئی ہیں۔ اس چھتری کو ہٹا دو (اور اس کے ساتھ بحری تجارت کی آزادی کو بھی) تو خلیج فارس کے یہ عرب ممالک ناگزیر طور پر تہران کے در پر بھیک مانگنے جائیں گے۔"

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛

رابرٹ کیگن (Robert Kagan)، امریکہ کے بااثر ترین نو-قدامت پرست شخصیات (Neo-conservatives) میں سے ایک ہیں، جنہوں نے ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کی تزویراتی شکست اور ایران کی فتح کے بارے میں، دی اٹلانٹک (The Atlantic) میں ایک مضمون لکھا ہے جس کے اہم نکات پیش خدمت ہیں:

- ہمیں بہت بمشکل ایسی گھڑی ياد آ سکتی ہے کہ امریکہ نے کسی تصادم میں مکمل شکست شکست کھائی ہو؛ ایسی قطعی شکست جس کا اسٹریٹجک نقصان نہ قابل تلافی ہو اور نہ ہی نظرانداز کرنے کے قابل۔

- پرل ہاربر، فلپائن اور پورے مغربی بحرالکاہل میں دوسری جنگ عظیم کے پہلے مہینوں میں امریکہ تباہ کن جانی نقصان کا متحمل ہؤا جس کا بالآخر ازالہ ہؤا۔ ویت نام اور افغانستان میں شکستیں مہنگی تھیں، لیکن عالمی سطح پر امریکہ کی مجموعی حیثیت کو کوئی پائیدار اور طویل مدتی نقصان نہیں پہنچا سکیں، کیونکہ یہ جنگیں عالمی مسابقت کے مرکزی میدانوں سے دور رونما ہوئیں۔ عراق میں ابتدائی ناکامی کو حکمت عملی کی تبدیلی سے کم کیا گیا، جس نے بالآخر عراق کو نسبتاً مستحکم اور اپنے پڑوسیوں کے لئے بے ضرور بنا دیا اور امریکہ کو خطے پر مسلط رکھا۔ لیکن

- ایران کے مقابلے میں موجودہ شکست کی نوعیت بالکل مختلف ہے۔

- یہ شکست نہ قابل تلافی ہے اور نہ ہی اسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔

- ایران کے ساتھ جنگ سے پہلے کی سی حالت میں واپسی ممکن نہیں ہے، امریکہ کو کوئی حتمی فتح حاصل نہیں ہوگی جو پہنچنے والے نقصان کو بے اثر یا ان کا ازالہ کر سکے۔

- آبنائے ہرمز پہلے کی طرح "کھلا" نہیں رہے گا۔

- ایران آبنائے پر کنٹرول کے ساتھ،  خطے میں ایک کلیدی کھلاڑی اور دنیا کے کلیدی کھلاڑیوں میں سے ایک کے طور پر ابھرے گا۔

- ایران کے اتحادیوں کے طور پر، چین اور روس کا کردار مضبوط ہوگا؛

- امریکہ کا کردار نمایاں طور پر کمزور ہو جائے گا۔

امریکی طاقت کی ظاہری نمائشوں اور جنگ کے حامیوں کے بارہا فتح کے دعو‎ؤں سے قطع نظر، ـ اس تصادم نے ثابت کیا ہے کہ امریکہ ناقابل اعتبار اور اپنے شروع کردہ کام کے خاتمے سے قاصر ہے۔

- یہ مسئلہ پوری دنیا میں ایک "سلسلہ وار ردعمل" کا سبب بنے گا، کیونکہ دوست اور دشمن خود کو امریکی شکست کے مطابق ڈھالیں گے۔ [کچھ ممالک دوری اختیار کریں گے، کچھ خالی خولی ہمدردی کریں گے، کچھ سابقہ مظالم کا انتقام لینے کی کوشش کریں گے۔۔۔]

- صدر ٹرمپ یہ کہنا پسند کرتے ہیں کہ جیت والے "کارڈز" کس کے پاس ہیں، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ کیا اس نے کھیلنے کے لئے کوئی اچھا کارڈ چھوڑا بھی ہے، واضح نہیں ہے۔

- امریکہ اور اسرائیل نے 37 دنوں تک ایران پر مؤثر طریقے سے تباہ کن حملے کئے، ملک کی زیادہ تر قیادت کو قتل کر دیا، لیکن حکومت کا تختہ الٹنے میں ناکام رہے، لیکن

- [امریکہ اور اسرائیل] ایران سے کوئی معمولی سی رعایت حاصل کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رپورٹ: علی رضا دائی چین

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 حصۂ اول | امریکہ مکمل شکست سے دوچار ہوگیا ہے، کنزرویٹو رابرٹ کیگان کا ٹرمپ کو ہتھیار ڈالنے کا مشورہ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha